بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اہلِ محلہ کے چندے سے چلنے والی مسجد کی بجلی سے موبائل وغیرہ چارج کرنے کا حکم

سوال

ایک مسجد جو اہلِ محلہ کی امداد سے چل رہی ہے یعنی ہر ایک رقم دیتا ہے، کوئی خاص بندہ معین نہیں کیا، ایسی مسجد میں جہاں پابندی بھی نہیں، کوئی بندہ موبائل چارج پر لگاتا ہے یا کوئی دوسری چیز بیٹری وغیرہ تو اس کے بارے کیا شرعی حکم ہے؟  کیا اس کا وہ چارج کرنا غیر شرعی ہے؟ مکمل وضاحت فرما دیجیے !

جواب

مسجد میں جو لوگ چندہ دیتے ہیں وہ لوگ مسجد کے اندر لوگوں کی اجتماعی و عمومی ضروریات کے اخراجات میں صرف کرنے کے لیے چندہ دیتے ہیں، اس لیے  اپنے ذاتی و انفرادی کاموں کے لیے مسجد کی بجلی استعمال کرنا درست نہیں ہے، البتہ اگر کوئی معتکف ہو تو اس کے لیے بقدرِ ضرورت گنجائش ہوگی، اور اگر کسی نے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے مسجد کی بجلی استعمال کرلی ہو تو اسے چاہیے کہ اندازے سے اتنے پیسے مسجد کے چندے میں ڈال دے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200547
تاریخ03-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں