بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدقہ کے بکروں کی خرید وفروخت

سوال

بعض رفاہی اداروں کے پاس جو صدقے کے بکرے وغیرہ  ہوتے ہیں ان  کا خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صدقہ کے بکرے صدقہ دینے والوں کی صراحۃً  یا دلالۃً اجازت کے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں، اور معلوم ہونے کی صورت میں ایسے بکرے لینا بھی درست نہیں ہے، اور اگر صدقہ دینے والوں کی طرف سے اجازت ہوتی ہو کہ بکرے فروخت کرکے پیسے ضروریات میں استعمال کیے جاسکتے ہیں تو رفاہی اداروں کے لیے ان کو فروخت کرنا اور اس کا خریدنا بھی جائز ہے۔  (مستفاد از کفایت المفتی 7/293، کتاب الوقف)۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200541
تاریخ03-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں