بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گواہوں کا فون پر ایجاب و قبول سننے کی صورت میں نکاح کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ لڑ کا اور لڑکی نکاح کر رہے ہیں، اور ایجاب اور قبول کیا، لیکن گواہان موبائل پر ایجاب اور قبول سن رہے ہیں۔ کیا یہ نکاح درست ہے؟

جواب

نکاح کے درست ہونے کے لیے شرط ہےدو گواہ (دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں) مجلسِ نکاح میں موجود ہوں اور مجلسِ نکاح میں جانبین کے ایجاب و قبول کو سن لیں، اگر لڑکا اور لڑکی تو مجلسِ نکاح میں ایجاب و قبول کریں، لیکن اس مجلس میں گواہ موجود نہ ہوں، بلکہ گواہ کسی دوسری جگہ پر ہوتے ہوئے فون کے ذریعہ ایجاب و قبول کو سن لیں تو اس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، اور یہ نکاح درست نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 21):

"(و) شرط (حضور) شاهدين  (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معاً)  على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب، بحر". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200534
تاریخ02-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں