بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کے بعد ساتھ رہنے کی صورت

سوال

چھ سال قبل میری بیوی نے مجھ سے گھریلو ناچاقی کی وجہ سے طلاق لی،  میں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا،  لیکن سسسرال والوں کے زبردست دباؤ کی وجہ سے مجبوراً مجھے دستخط کرنے پڑے،  ایک ہی وقت میں تین دفعہ طلاق ایک ہی اسٹامپ پر لکھی گئیں ،اب میری سابقہ بیوی اور میں خود دوبارہ گھر بسانا چاہتے ہیں،  ایسی صورت میں کیا نکاحِ جدید ہو گا یا حلالہ لازم ہے؟

جواب

تین طلاقوں کے  بعد  زوجین کا باہم رجوع کرنا یا تجدیدِ نکاح جائز نہیں ہے، البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد  عورت کا کسی دوسری جگہ نکاح ہو   وہاں حقوق زوجیت ادا ہوں اور دوسرا شوہر بغیر کسی جبر ، دباؤ ،  لالچ  یا شرط کے از خود طلاق دے دے یا اس شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کی عدت پوری کرکے دوبارہ پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200521
تاریخ02-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں