بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ضرورت کے سامان میں زکات

سوال

 کپڑے اور برتنوں کا حساب کیسے کیا جائے گا؟  ضرورت سے زائدچیزوں کی قیمت لگائی جائے گی؟ اورقیمت کس حساب سے لگائی جائےگی؟

جواب

زکات فرض ہونے کے لیے ضرورت سے زائد سامان یا مال ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ ضرورت سے زائد مال یا سامان کے لیے نامی (بڑھنے والا) ہونا ضروری ہے، اور مالِ نامی سے مراد سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور سائمہ (سال کا اکثر حصہ خود چرنے والے) جانور ہیں، مالِ نامی پر بھی مخصوص نصاب پورا ہونے اور سال گزرنے کے بعد زکات واجب ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کپڑے یا برتن وغیرہ تجارت کے لیے نہیں ہیں تو  زکات ادا کرنے کے لیے ان کی قیمت نہیں لگائی جائے گی۔

 البتہ اگر کسی شخص (مرد یا عورت) کے پاس ضرورت سے زائد کپڑے یا برتن وغیرہ ہوں (جو سال میں ایک مرتبہ بھی استعمال نہ ہوتے ہوں) اور اس سامان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو تو ایسے شخص پر صدقہ فطر اور قربانی لازم ہوتی ہے، اور  یہ شخص زکات وصول نہیں کرسکتا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200496
تاریخ01-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں