بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو نقد رقم کا ہبہ کرنا

سوال

میرے والد صاحب جو کے چند دن پہلے بقضائے الہی وفات پا گئے ہیں، انہوں نے دو تین سال پہلے اپنی تمام نقد رقم میری والدہ (ان کی بیوی) کی رقم کے ساتھ ملادی تھی اور پانچ چھ دفعہ ہم سب بہن بھائیوں کے سامنے یہ کہا کہ  یہ سب مال میں نے تمہاری ماں کو دے دیاہے۔ اب کیا یہ رقم ہم ان کے ترکے میں شامل کریں گے یا یہ میری والدہ کا حصہ ہے؟  میرے ایک بھائی کا کہناہے کہ یہ میرے والد صاحب ویسے ہی کہہ کر گئے تھے، اصل میں نہیں دے کر گئے تھے، ان کو ترکے میں شامل کرو۔  جواب دے کر راہ نمائی فرمائیں!

جواب

جب آپ کے والد وہ رقم خود ان کو دے کر گئے ہیں اور اپنی رقم آپ کی والدہ کی رقم کے ساتھ ملادی تھی اور آپ  لوگوں کو اس کے بارے مٰیں اطلاع بھی دی ہے تو وہ تمام رقم آپ کی والدہ کی ہے، ترکہ مٰیں شمار نہ ہوگی۔

 ص 702  شامی ج6:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الکامل"... فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200489
تاریخ01-04-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں