بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی آمدنی سے مؤذن، خادم کو قرضہ دینا

سوال

1-  کیا مسجد کی آمدنی سے ملازمینِ مسجد  (امام, مؤذن,خادم) کو قرضہ دیا جا سکتا ہے?

2- کیا ان ملازمین کو علیحدگی کے وقت ان کی خدمت کے  عوض مسجد کی آمدنی میں سے کچھ رقم دی جا سکتی ہے? جب کہ وہ ضعیفی کی وجہ سے کام کرنے کے قابل نہ رہے ہوں?

3-  امام یا مؤذن کے انتقال کی صورت میں بیوہ کو مسجد کی آمدنی سے  ماہانہ وظیفہ دیا جا سکتا ہے?

جواب

مسجد کے فنڈ سے مسجد کے ملازمین کو اتنا قرضہ دیا جاسکتا ہےجس کی وصولی ان سے ممکن ہو،باقی جہاں تک مسجد فنڈ سے ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت یا انتقال کے وقت ان کی بیوہ یا گھر والوں کی امداد کا تعلق ہے تو اس کی بہتر صورت یہ ہے کہ مسجد والے اس مقصد کے لیے الگ فنڈ قائم کریں جو مسجد کے عمومی فنڈ سے الگ ہواور اس فنڈ سے اپنے ملازمین کی مدد کریں،مسجد کے عمومی چندہ سے یہ تعاون اس وقت درست ہوگا جب چندہ لیتے وقت اس بات کی وضاحت کی گئی ہو کہ یہ رقم ملازمین کی امداد میں بھی استعمال ہوگی ورنہ نہیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200450
تاریخ30-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں