بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض معاف کر دینا

سوال

اگر کوئی  اپنا قرض دلی خوشی سے معاف کردے تو کیا معاف ہوجاتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر قرض دینے والا بخوشی مقروض کو قرض کی ادائیگی سے بری کر دے اور مقروض بری کرنے کو رد بھی نہ کرے تو قرض معاف ہوجائے گا۔

شرح مجلة الأحكام العدلية میں ہے:

’’الْمَادَّةُ (١٥٦٨): لَايَتَوَقَّفُ الْإِبْرَاءُ عَلَى الْقَبُولِ، وَلَكِنْ يَرْتَدُّ بِالرَّدِّ؛ فَلِذَلِكَ لَوْ أَبْرَأَ أَحَدٌ آخَرَ فَلَايُشْتَرَطُ قَبُولُهُ، وَلَكِنْ إذَا رَدَّ الْإِبْرَاءَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ بِقَوْلِهِ: لَاأَقْبَلُ الْإِبْرَاءَ يَكُونُ ذَلِكَ الْإِبْرَاءُ مَرْدُودًا. يَعْنِي لَايَبْقَى لَهُ حُكْمٌ. لَكِنْ لَوْ رَدَّهُ بَعْدَ قَبُولِ الْإِبْرَاءِ فَلَايَرْتَدُّ الْإِبْرَاءُ‘‘. (١/ ٣٠٦)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200447
تاریخ30-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں