بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وراثت کی تقسیم

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا اس کی ۱ بیوی ، ۳ بیٹے ، ۱ بھائی اور ۳ بہنیں ہیں ( والدین کا بہت پہلے انتقال ہوچکا ہے ) اب وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

جواب

ذکر کردہ صورت میں مرحوم کے ترکے سے حقوق متقدمہ ادا کرنے کے بعد  (یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات منہا کرنے کے بعد اگر مرحوم پر قرض ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ سے اسے نافذ کرنے کے بعد) کل مال کا آٹھواں حصہ (ساڑھے بارہ فی صد)بیوہ کو ملے گا، باقی کل ترکہ تین بیٹوں میں برابر برابر تقسیم ہوجائے گا ،بیٹوں کی موجودگی میں مرحوم کی میراث میں بھائی بہن شرعاً حصہ دار نہیں ہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200442
تاریخ30-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں