بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

الفاظِ اقامت ایک مرتبہ کہنے سے نماز کا حکم

سوال

اقامت کے کلمات کو کتنی مرتبہ کہنا چاہیے؟ اگر ایک ایک مرتبہ کہا تو کیا نماز درست ہو جاۓ گی؟ میرا ایک مقتدی جوکہ غیر مقلد ہے کئی مرتبہ ایساہی کرتا ہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیوں کہ یہ فیکٹری کی مسجد ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا؟

جواب

فقہاءِ احناف کے نزدیک وہ احادیث راجح ہیں جن میں اقامت کے کلمات کی تعداد سترہ (17) ہے، جن میں کلماتِ اقامت دو دو مرتبہ ہیں، لہٰذا مسنون اقامت میں سترہ کلمات ہیں، اگر کوئی شخص کلماتِ اقامت ایک ایک مرتبہ کہتا ہے تو یہ اقامت خلافِ سنت ہو گی، بہرصورت نماز درست ہو جائے گی۔ اس کا ایک ممکنہ حل یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کسی سمجھ دار مقتدی کو اقامت کہنے پر مامور کر دیں جو نماز کے وقت اقامت کہہ لیا کرے، ورنہ حالات دیکھ کر جو مناسب تدبیر ہو وہ اختیار کر سکتے ہیں۔

الفتاوى الهندية (1/ 55):
"والإقامة سبع عشرة كلمةً، خمس عشرة منها كلمات الأذان وكلمتان قوله: قد قامت الصلاة مرتين". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200440
تاریخ30-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں