بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ وغیر شادی شدہ کا ویکس کرنا

سوال

کیا شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے لیے وکس کرنا جائز ہے؟

جواب

مسلمان مردکے لیے دوسرے  مرد ،اورعورت کے لیے  کسی دوسری عورت کے سامنے بھی ناف سے لے کر گھٹنوں سمیت حصہ چھپانا فرض ہے، شرعی عذر کے بغیر ان اعضاء میں سے کوئی عضو کسی کے سامنے کھولنا اور  کسی اورکا (زوجین کے علاوہ)ان اعضاء کو چھونا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا ستر والے مقام کا ویکس کسی اور سےکرانا  جائز نہیں ہے، خود کرسکتے ہیں۔ 

البتہ ستر کے علاوہ  کسی اور عضو کا ویکس دوسروں سے کروانابھی  جائز  ہے، بشرطیکہ اس سے ویکس کرائے جس کے لیے جسم کا وہ حصہ دیکھنا اور چھونا جائز ہو، نیز غیر محارم کے سامنے زینت کا اظہار مقصود نہ ہو۔ اس حکم میں شادی شدہ وغیر شادی شدہ برابرہیں۔

البتہ مردوں کے لیے ہاتھ ،پاؤں ،سینے اور پشت کے بال صاف کرناخلافِ ادب ہے ،صاف نہ کرنا  بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200417
تاریخ29-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں