بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹخنوں سے نیچے پائنچے رکھنے والے/ ڈاڑھی منڈے/ نماز میں سر کا رومال دونوں ہاتھوں سے درست کرنے والے امام کی اقتدا کا حکم

سوال

کیا امام کا پاجامہ یا کرتہ ٹخنوں سے نیچے ہو تو نماز ہو جائے گی؟

اور اگر امام دونوں ہاتھوں سے سر کا رومال ٹھیک کرتا رہے نماز میں کیا نماز باقی رہے گی؟

اور بغیر داڑھی کے امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی؟

جواب

* شلوار یا پائجامے کا ٹخنوں  سے نیچے رکھنا شرعاً ممنوع ہے خواہ نماز کی حالت میں ہو یا نماز کے علاوہ عام حالت ہو، اور شلوار کو پائجامہ سے نیچے لٹکانے والا سخت گناہ گار ہے، بہرحال اس حال میں بھی جو شخص نماز پڑھے گا تو  کراہت کے ساتھ نماز ہو جائے گی۔

* اگر کوئی شخص نماز میں اس طرح اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے رومال کو درست کرتا ہے کہ دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے تو ایسے شخص کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔

* داڑھی مونڈے شخص کی اقتدا  میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200367
تاریخ27-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں