بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی گاؤں / شہر کی حدود

سوال

 مسافر کے لیے گاؤں یا شہر کی حدود بتائیں!

جواب

شہر یا گاؤں کی آبادی جہاں سے ختم ہوتی ہے وہاں سے مسافر کے لیے قصر کرنا جائز ہوجاتا ہے۔

’’من خرج من عمارة موضع إقامته مسیرة ثلاثة أیام و لیالیها صلی الفرض الرباعي رکعتین‘‘. (در مختار)

’’(قوله: من عمارة موضع إقامته) أشار إلی أنه یشترط مفارقة ما کان من توابع موضع الإقامة کربض المصر وهو ما حول المدینة من بیوت و مساکن فإنه حکم المصر‘‘. (در مختار مع الشامي ۲؍۵۹۹ ، البحر الرائق ۲؍۲۲۶ رشیدیة)

’’فناء ه وهو ماحوله اتصل به أولا لأجل مصالحه‘‘. (تنویر الأبصار مع الدر المختار علی الشامي ۳؍۷)

’’والقریة المتصلة بالفناء دون الربض لاتعتبر مجاوزتها علی الصحیح کما في شرح المنیة‘‘. (شامی ۲؍۶۰۰زکریا ، بیروت ۲؍۵۲۳) 
’’إن کان بین المصر وفنائه أقل من قدر غلوة و لم یکن بینهما مزرعة یعتبر مجاوزة الفناء أیضاً و إن کان بینهما مزرعة أو کانت المسافة بین المصر وفنائه قدر غلوة یعتبر مجاوزة عمران المصر و لایعتبرفي مجاوزة الفناء‘‘. (فتاویٰ قاضی خاں ۱؍۱۶۵)

’’والأصل في ذلک ما روي عن علي رضي اللّٰه عنه أنه خرج من البصرة یرید السفر فجاء في وقت العصر فأتمها، ثم نظر إلی ’’خص‘‘ أمامه فقال: أما لو کنا جاوزنا هذا الخص لقصرنا‘‘. (أخرجه عبد الرزاق في مصنفه ۲؍۵۲۹ رقم: ۴۳۱۹، المحیط البرهاني ۲؍۳۸۷ إدارۃ القرآن کراتشي) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200357
تاریخ27-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں