بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانے کے دوران اذان شروع ہوجانے کی صورت میں ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنے کا حکم

سوال

 دورانِ کھانا اگر اذان ہوجائے تو کھانا روک کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنی چاہیے؟

جواب

کھانے کے دوران اذان ہوجانے کی صورت میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا شریعتِ مطہرہ میں ثابت نہیں ہے، بلکہاذان کے دوران تو ویسے بھی دعا کے بجائے اذان کا جواب دینا مستحب ہے،  اور  کھانا کھانے والا شخص تو کھانے کے دوران اذان کا جواب دینے سے بھی مستثنیٰ ہے۔ نیز اذان کے بعد کی دعا میں بھی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا ثابت نہیں ہے، اس لیے اگر کھانے کے دوران اذان ہوجائے تو کھانا جاری رکھا جائے، ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے، ہاتھ اٹھائے بغیر اذان کے بعد کی دعا پڑھ سکتے ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 396):

"(ويجيب) وجوباً، وقال الحلواني ندبا، والواجب الإجابة بالقدم (من سمع الأذان) ولو جنباً لا حائضاً ونفساء وسامع خطبة وفي صلاة جنازة وجماع، ومستراح وأكل وتعليم علم وتعلمه". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200356
تاریخ27-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں