بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شزان نام رکھنا

سوال

شزان نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

عربی زبان میں ’’شزان‘‘  شزن سے ہے، شزن کے معنی مختلف ہیں :

زمین کا سخت حصہ، کنارہ، طرف،  ’’رجل شزن‘‘، بداخلاق آدمی کو کہا جاتا ہے،  اسی طرح سختی وغیرہ اس کے معانی آتے ہیں۔

یہ نام رکھنا اچھا نہیں ہے۔

 بہتر ہے کہ  انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام  یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام، یا  صلحاء (نیک لوگوں) کا جن ناموں کے رکھنے کا تعامل ہو  وہ نام رکھا جائے۔

لسان العرب (13/ 236):
"شزن: الشَّزَنُ، بِالتَّحْرِيكِ، والشُّزُونة: الغِلَظُ مِنَ الأَرض؛ قَالَ الأَعشى:
تَيمَّمْتُ قَيْساً، وَكَمْ دُونَهُ ... مِنَ الأَرض مِنْ مَهْمَهٍ ذِي شَزَنْ ۔ وَفِي حديث الذي اختطفته الجنُّ:كُنْتُ إِذا هَبَطْتُ شَزَناً أَجده بَيْنَ ثَنْدُوَتَيَ
؛ الشَّزَن، بِالتَّحْرِيكُ: الْغَلِيظُ مِنَ الأَرض، وَالْجَمْعُ شُزُنٌ وشُزونٌ، وَقَدْ شَزُنَ شُزُونة. وَرَجُلٌ شَزَن [شَزِن] : فِي خُلُقه عَسَرٌ. وتَشَزَّنَ فِي الأَمر: تَصَعَّبَ. وَفِي حَدِيثِ لُقْمانَ بْنِ عادٍ: ووَلَّاهم شَزَنَه ، يُرْوَى بِفَتْحِ الشِّينِ وَالزَّايِ وَبِضَمِّهِمَا وَبِضَمِّ الشِّينِ وَسُكُونِ الزَّايِ، وَهِيَ لُغَاتٌ فِي الشِّدَّة والغِلْظة، وَقِيلَ: هُوَ الْجَانِبُ، أَي يُوَلِّي أَعداءَه شِدَّته وبأْسه أَو جَانِبَهُ أَي إِذا دَهَمَهم أَمر وَلَّاهم جَانِبَهُ فحَاطَهم بِنَفْسِهِ. يُقَالُ: وَلَّيته ظَهْرِي إِذا جَعَلَهُ وَرَاءَهُ وأَخذَ يَذُبُّ عَنْهُ. وشَزِنَت الإِبل شَزَناً: عَيِيَتْ مِنَ الْحَفَا. والشَّزَنُ: شِدَّةُ الإِعياء مِنَ الْحَفَا، وَقَدْ شَزِنت الإِبل". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200297
تاریخ25-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں