بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ خریدتے وقت تجارت کی نیت میں شک ہو تو اس پر زکوۃ کا حکم

سوال

میں ایک پلاٹ خرید رہا ہوں،  آفس سے قرض لیا ہوا ہے،  پلاٹ میں میری نیت طے نہیں ہے،  گھر بھی بنا سکتا ہوں  یا کچھ سال بعد بیچ دوں گا،  آیا اس پلاٹ  پر  زکات کا کیا حکم  ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ  پلاٹ کو خریدتے وقت حتمی طور پر تجارت کی نیت نہیں ہوگی،  لہٰذا یہ پلاٹ  تجارتی مال میں شامل نہیں ہوگا، اور اس پر زکات فرض نہیں ہوگی۔ 

فتح القدير للكمال ابن الهمام (2/ 168):
"(ومن اشترى جاريةً للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة)؛ لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة، (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة)؛ لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200279
تاریخ23-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں