بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام مال سے تعمیر کی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنے کا حکم

سوال

کیا حرام کے پیسے سے بنائی گئی مسجد میں نماز ہوجاتی ہے  جب کہ آج کل حرام حلال مکس ہوچکے ہیں؟

جواب

جب تک یقین سے معلوم نہ ہو کہ مسجد میں حرام کے پیسے لگے ہیں تو اس کو حرام مال سے تعمیر کردہ مسجد نہیں کہا جاسکتا، اس میں نماز پڑھنا میں کسی قسم کی کراہت نہیں ہے۔ اور جب یقین سے معلوم ہوکہ اس میں حرام مال لگا ہے تو اس کی مختلف صورتیں ہیں، متعینہ جزئیہ یقینی طور پر بیان کیا جائے تو اس کا جواب دیا جاسکتاہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200273
تاریخ23-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں