بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ورلڈ بینک کی امداد سے لگائے جانے والے پروجیکٹ سے عام آدمی کا نفع اٹھانا

سوال

ہمارے علاقے آزادکشمیر میں عالمی بنک(ورلڈ بنک ) کی طرف سے مہیا کردہ فنڈز سے مختلف ترقیاتی کام ہوتے رہتے ہیں، کہیں روڈز اور کہیں سکولز اور کہیں پانی وغیرہ کی اسکیمیں، ہمارے گاؤں میں ورلڈ بنک کے مہیاکردہ فنڈ سے ایک پانی کی اسکیم لگنے والی ہے، گاؤں کے دین دار مسلمانوں میں تشویش اس بات کی ہے کہ آیا ورلڈ بنک جو یقیناً  ایک خالص سودی بنک ہے سے  ملنے والی رقم میں سود کا کوئی شائبہ تو نہیں؟ لہٰذا آپ سے یہ سوال ہے کہ ورلڈ بنک سے اس طرح کی پانی اسکیم کے لیے فنڈز لینا یا ان کی اسکیم سے گھر میں پانی لگوانا یا اس سکیم کی کسی حوالے سے تایید کرنا شرعاً کیساہے؟

جواب

ورلڈ  بینک یقیناً  ایک سودی ادارہ ہے، جس کے اغراض و مقاصد میں ساری دنیا  کو  مخلتف اسکیموں کے نام پر سود  میں جکڑنا ہے، لہذا مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ اس سے فوائد حاصل نہ کریں۔  تاہم اگر سرکاری سطح پر ورلڈبینک کے توسط سے کوئی پروجیکٹ عوامی سہولت کے لیے لگایا جا رہا ہو، تو چوں کہ عام آدمی کا اس میں کسی قسم کا اختیار نہیں ہوتا؛ اس لیے وہ اس پروجیکٹ سے منافع حاصل کر سکتا ہے، اس پر اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اس کا مواخذہ نہ ہوگا، لہذا آپ کے گاؤں میں جو پروجیکٹ لگایا جا رہا ہے، اس سے عام آدمی فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200269
تاریخ23-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں