بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جہاں پنج وقتہ نماز نہ ہوتی وہاں جمعہ پڑھنا

سوال

یونیورسٹی میں ایک مسجد ہے جس میں صرف 2 یا 3 وقت کی نماز ہوتی ہے، وہ بھی اگر ڈیوٹی  ہو ورنہ وہ بھی نہیں ہوتی ، کیا وہاں جمعہ ہو جاتا ہے؟

جواب

جمعہ کے لیے مسجد شرط نہیں، مسجد کے علاوہ بھی کسی گھر یا میدان میں جمعہ ادا کرنا جائز ہے؛  اور نہ ہی کوئی ایسی جگہ ہونا شرط ہے جہاں پنج وقتہ نماز ہوتی ہو،لیکن صحتِ جمعہ کے لیے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ جگہ شہر یا قصبہ ہو اور گاؤں ہو تو اتنا بڑا ہوکہ بڑی آبادی ہونے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی تمام ضروریاتِ زندگی وہاں مہیا ہوں۔

لہذا اگر یونیورسٹی  شہر میں ہے، تو وہاں جمعہ ادا کرنا جائز ہے، چاہے وہاں مسجدِ شرعی ہو یا نہ ہو ، خواہ وہاں پانچوں نمازیں نہ ہوتی ہوں۔

کبیری میں ہے: 

"والمسجد الجامع لیس بشرط؛ لهذا أجمعوا علی جوازها بالمصلی في فناء المصر..." إلخ (ص: ۵۵۱، ط: أشرفي)

وفیه قبل أسطر:

"․․․ عن أبي حنیفة أنه بلدة کبیرة فیها سکک وأسواق، ولها رساتیق، وفیها والٍ یقدر علی إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو غیره..." إلخ․ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200253
تاریخ22-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں