بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کئی سالوں تک وتر چھوڑنے کی صورت میں قضا کا حکم

سوال

 عشاء کی فرض نماز تو پڑھ لی ہے مگر وتر نہیں پڑھتا کئی سالوں سے ،تو اب وہ اگر قضا کرنا چاہے تو کیا وہ اب وتر کی صرف قضا کرے یا فرض کی بھی قضا کرے گا؟

جواب

اگر کسی شخص نے کئی سالوں تک صرف عشاء کی نماز کے فرض پڑھے ہیں، وتر نہیں پڑھے ہیں تو اس پر  وتر (جس کا پڑھنا واجب ہے)  کے چھوڑنے پر اللہ کے دربار میں توبہ و استغفار کرنا اور وتر کی قضا پڑھنا لازم (واجب )  ہے، البتہ عشاء کے جو فرض اس نے ادا کئے ہیں وہ ادا ہوگئے ہیں ان کی قضا اس کے ذمہ نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 66)

(وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة) لف ونشر مرتب

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200242
تاریخ21-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں