بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کی طرف سے نمازوں فدیہ ادا کرنا

سوال

نماز کے لیے  فدیہ کیا ہے؟ اور کتنا؟ میرے والد 76 سال کی عمر میں چند دن پہلے انتقال فرما گئے ہیں .انہوں نے فدیہ دینے کی وصیت نہیں کی اور ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ان کی کتنی نمازیں قضا ہیں،  وہ باقاعدگی سے نماز نہیں پڑھتے تھے، صرف جمعہ کی نماز باقاعدگی سے پڑھتے تھے.اب ان کی قضا نمازیں کیسے معلوم ہوں گی؟  اور کیا فدیہ ادا کرنا ضروری ہے ان کی طرف سے یا نہیں؟

جواب

ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے اور روزانہ وتر کے ساتھ چھ نمازیں ہیں تو ایک دن کی نمازوں کے فدیے بھی چھ ہوئے، اور ایک صدقہ فطر تقریباً پونے دو کلو گندم یا اس کاآٹا یا اس کی قیمت ہے۔

جب مرحوم نے فدیہ کی وصیت نہیں کی تو شرعاً ورثہ پر فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر عاقل وبالغ ورثہ از خود اپنے حصے سے باہمی رضامندی سے ادا کردیں تو امید ہے کہ مرحوم آخرت کی باز پرس سے بچ جائیں گے، اور اگر فدیہ ادا کرنا چاہیں اور قضا شدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہیں تو اندازہ کر لیں کہ کتنی نمازیں قضا ہوئی ہیں، اس حساب سے فدیہ ادا کر دیں، اگر یک مشت نہ ہوسکے تو تھوڑا تھوڑا کرکے وقتاً فوقتاً ادا کرتے رہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200239
تاریخ21-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں