بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت سے پیچھے کے راستے سے جماع کرنا

سوال

اگر کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ اس کے پیچھے سے جماع کرتا ہے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟ اور وہ کس طرح توبہ کرے؟

جواب

واضح رہے کہ پیچھے کے راستے سے جماع کرنا اپنی بیوی کے ساتھ بھی حرام ہے چہ جائیکہ کسی اور عورت کے ساتھ  ،  یہ عمل بد گناہ کبیرہ ہے اور خداوندی غیض وغضب کا باعث اور مستحق سزا ہے  

حدیث شریف میں ہے:

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (3/ 490)

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ملعون من أتى امرأته في دبرها

یعنی ایسا شخص ملعون ہے جو عورت کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرتا ہے

مسند أحمد ت شاكر (7/ 399)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله - صلي الله عليه وسلم -: "إن الذي يأتي امرأته في دبرها لا ينظر الله إليه".

یعنی اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف نظر نہیں فرمائیں گے جو  پچھلی شرمگاہ میں جماع کرتا ہے۔

البتہ اگر کسی سے یہ گناہ سرزد ہو جائے تو اس گناہ سے سچے دل سے توبہ کر کے آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم کرے، اگر توبہ کر لے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالی معاف فر دیں گے، اللہ تعالی سے خوب گڑگڑا کر توبہ واستغفار ہی  اس برے عمل کا  تدارک اور کفارہ ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200231
تاریخ21-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں