بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نوک دار گولے سے کیے جانے والے شکار کا حکم

سوال

نوک دار گولی والی بندوق سے شکار کرنے کی صورت میں اگر  "بسم اللہ"  پڑھ  لی جائے تو پرندہ بغیر ذبح کیے حلال ہو گا جب کہ گولی پرندہ کے پیٹ میں لگی ہو نہ کہ گردن پر؟

جواب

شکار  کے لیے مخصوص ایسی نوک دار تیز دھارگولی جو بغیر بندوق کے بھی آلہ جارحہ کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہو اسے چلاتے ہوئے اگر "بسم اللہ"  پڑھ  لیا جائے تو اس سے کیا جانے والا شکار حلال ہوگا،  اگرچہ گولی بدن کے کسی بھی حصہ پر لگی ہو ،باقی اگر گولی ایسی نوک دار نہیں ہے جو بذاتِ خود آلہ جارحہ ہو تو اس سے کیا جانے والا شکار اس وقت حلال ہوگا جب اسے زخمی حالت میں  شرعی طریقے سے ذبح  بھی کر لیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولایخفی أن الجرح بالرصاص إنما هو بالإحراق و الثقل بواسطة اندفاعه العنیف إذ لیس له حدّ فلایحلّ، و به أفتی ابن نجیم." (476/1) 

تبیین الحقائق میں ہے :

"والأصل أنّ الموت إذا حصل بالجرح بیقین حلّ، و إن بالثقل أو شكّ فیه فلایحلّ حتمًا أو احتیاطًا." (129/7 ط: بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144007200220
تاریخ21-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں