بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محرم اور نامحرم رشتہ دار/مرد کا عورت کو سلام کرنا

سوال

محرم یا نا محرم مرد اور عورت میں فرق بتائیں!  مرد عورت کو کس طرح سلام کرے؟ عورت سے ہاتھ ملانا جائز ہے یا نہیں?

جواب

محرم وہ رشتہ دار کہلاتے ہیں جن سے زندگی بھر نکاح کرنا جائز نہ ہو ، جیسے والد ،بھائی چچا،ماموں وغیرہ اور اس کے مقابل نامحرم وہ رشتہ دار کہلاتے ہیں جن سے زندگی بھر میں نکاح کرنا جائز ہو خواہ کسی عارض کی وجہ سے وقتی ممانعت ہو جیسے چچا زاد، ماموں زاد ،پھوپھی زاد،بہنوئی وغیرہ۔

مرد اجنبی جوان عورت کو سلام نہ کرے ،بڑیعمر کی خواتین کوزبانی سلام کرسکتے ہیں۔ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ کرنا (ہاتھ ملانا) شرعاً جائز نہیں ہے، ہاں اپنی محرم خواتین سے مصافحہ کرسکتا ہے، لیکن اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو  ہاتھ نہ ملائے۔

"عن یحی بن أبي کثیر قال: بلغني أنه یکره أن یسلم الرجل علی النساء، والنساء علی الرجل". (شعب الإیمان، فصل في السلام علی النساء، دار الکتب العلمیة بیروت ۶/۴۶۰، رقم: ۸۸۹۶)
"قال: و أخبرنا معمر، قال: کان قتادة یقول: أما امرأة من القواعد فلا بأس أن یسلم علیها، وأما الثانیة فلا". (شعب الإیمان)
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200212
تاریخ20-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں