بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات کے پیسوں سے انعامی کتابیں خرید کر طلبہ کو دینے کا حکم

سوال

زکات کےپیسوں سے طلبہ کے لیے انعامی کتب لیناکیساہے؟

جواب

مستحقِ زکات طلبہ کو زکات کے پیسوں سے خریدی گئی کتابیں بطورِ انعام دینا جائز ہے، البتہ ایسے طلبہ جو مستحقِ زکات نہ ہوں ان کو زکات کے پیسوں سے انعامی کتابیں خرید کر  دینا جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 171):

"ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية".فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200204
تاریخ20-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں