بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شہوت کے ساتھ بیوی کو چھونے یا بوس و کنار کرنے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

سوال

 کیا وضو کی حالت میں شہوت کے ساتھ بیوی کو چھونے یا بوس وکنار کرنے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

شہوت کے ساتھ بیوی کو چھونے یا بوس و کنار کرنے سے اگر شرم گاہ سے مذی وغیرہ نکل جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر شرم گاہ سے مذی وغیرہ کوئی چیز نہ نکلے تو صرف چھونے یا بوس و کنار کرنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، چاہے شہوت سے ہی کیوں نہ ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 134):

"(وينقضه) خروج منه كل خارج (نجس) بالفتح ويكسر (منه) أي من المتوضئ الحي معتاداً أو لا، من السبيلين أو لا".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 165):

"(لا) عند (مذي أو ودي) بل الوضوء منه ومن البول جميعا على الظاهر.

 (قوله: لا عند مذي) أي لايفرض الغسل عند خروج مذي كظبي بمعجمة ساكنة وياء مخففة على الأفصح، وفيه الكسر مع التخفيف والتشديد، وقيل: هما لحن ماء رقيق أبيض يخرج عند الشهوة لا بها، وهو في النساء أغلب، قيل هو منهن يسمى القذى بمفتوحتين نهر". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200198
تاریخ20-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں