بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلبہ کا موبائل توڑنا /ضبط کرنا

سوال

ہمارے  مدرسہ میں قانون یہ ہے کہ اگر کسی طالبِ علم سے موبائل ضبط کیا جائے تو اسے مدرسہ کے للہ فنڈ میں دے دیا جاتاہے یا اس کو توڑ دیا جاتاہے،  ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ صورت یعنی موبائل کو توڑ دینا تعزیرِ مالی میں شامل ہے جو کہ فقہائے حنفیہ کے ہاں جائز نہیں ہے۔اس  کی جگہ طلبہ کی اس بے ضابطگی پر ان کو  مدرسہ سے خارج کیا جاسکتا ہے اور کوئی دوسری سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ یا صرف موبائل ضبط کرکے سال کے آخرمیں واپس کردیں۔

  • ولایکون التعزیر بأخذ المال من الجاني في المذهب. (مجمع الأنهر، کتاب الحدود / باب التعزیر ۱؍۶۰۹ بیروت)
  • وفي شرح الآثار: التعزیر بأخذ المال کانت في ابتداء الاسلام ثم نسخ. (البحر الرائق /باب التعزیر41/5 )
  • والحاصل أن المذهب عدم التعزیر بأخذ المال. (شامی / باب التعزیر، مطلب في التعزیر بأخذ المال،ج: ۴، ص: ۶۱)
  • لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی۔ (شامی / باب التعزیر، مطلب فی التعزیر بأخذ المال،ج: ۴، ص: ۶۱) فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200191
تاریخ20-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں