بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے گاڑی لینے کا حکم

سوال

1.اگر کوئی بینک کے ذریعے گھر خریدے تو آیا اس کا کیا حکم ہے؟ 

2. اگر ناجائز ہے تو جواز کی کوئی صورت ؟

3. اور زیادہ پیسے دینا سود کے زمرہ میں تو نہیں آئے گا؟

4. نیز دارالعلوم کراچی والوں کا اس بارے میں کیا فتوی ہے؟

5. اور جواز کی صورت میں کن کن بینکوں سے یہ معاملہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب

1. بینک کے ذریعہ گھر خریدنا جائز نہیں ہے۔

2.  جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کسی سے بلا سودی قرضہ حاصل کر لے۔

3.اگر قرض پر زیادہ نفع دیا جائے تو حقیقی سود ہے ور نہ معنوی سود ہے۔

4. دارالعلوم کراچی والوں کا فتویٰ اُن ہی سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔

5. ہمارے علم کے مطابق فی الوقت ایسا کوئی بینک نہیں ہے جو اسلامی اصول و ضوابط پر پورا اترتا ہو؛ لہذا کسی بینک سے بھی ایسا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200189
تاریخ20-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں