بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا زندگی میں تقسیمِ جائے داد ضروری ہے؟

سوال

اگر کوئی  شخص بغیر وراثت تقسیم کیے انتقال کر جاۓ تو کیا وہ اللہ کے سامنے گناہ گار ہوگا، جبب کہ جائے داد اسی کے نام پر ہو؟

جواب

واضح رہے کہ کسی انسان پر یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی جائے داد تقسیم کرے، بلکہ  ورثاء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مورث کے انتقال کے بعد اُس کے ترکہ کو تمام شرعی ورثاء کے درمیان شرعی حصص کے مطابق تقسیم کریں، لہذا اگر کوئی شخص اپنی جائے داد  تقسیم  کیے بغیر انتقال کر جائے تو وہ گناہ گار نہ ہو گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200185
تاریخ19-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں