بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کو شادی کی دعوت میں بلانا

سوال

کسی شیعہ کواپنی شادی میں یابیٹے بیٹی کی شادی میں دعوت دینااور شادی کی تقریب میں دوسرے مہمانوں اورشرکاء سے زیادہ اہم مہمان کے طور پرشریک رکھناازروئے شرع کیاحکم ہے؟

جواب

کسی شیعہ کو رشتہ داری یا کسی ضرورت کی وجہ سے اپنی یا اپنے بیٹے،بیٹی کی شادی میں دعوت دینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اسے  کسی وجہ کے بغیردیگر مہمانوں سے زیادہ توجہ اور اعزاز دینا مناسب نہیں۔

الفتاوى الهندية - (43 / 376):

"وفي التفاريق: لا بأس بأن يضيف كافرًا لقرابة أو لحاجة، كذا في التمرتاشي."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144007200155
تاریخ18-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں