بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کا سنی کے جنازے میں شریک ہونا

سوال

اگر کوئی شیعہ (ہمسائیگی یادور پارکی رشتہ داری کے بہانے) کسی مسلمان کے جنازےمیں شریک ہوجائے توکیاحکم ہے؟ اورکیاجنازے کےوقت اس کی شرکت معلوم ہونے پر اس کومنع کرنا اور جنازہ سے باہر ہوجانے کاکہنادرست ہوگا ؟

جواب

سنی مسلمان کے جنازے میں شیعہ کی شرکت کرنے کی گنجائش ہے، جنازے کے وقت معلوم ہونے پر اسے منع کرنا اور جنازہ سے باہر ہونے کا کہنا درست نہیں۔

رد المحتار (2 / 231):

"ويكره أن يدخل الكافر في قبر قريبه المسلم ليدفنه، بحر".

فتاوی  محمودیہ میں ہے:

’’۔۔۔ ہندو لوگ جو کہ ہمارے مردے کے ساتھ قبر پر جاتے ہیں اور مٹی دیتے ہیں، ان کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی علمائے دین کیا فرماتے ہیں اور کیا حکم ہے؟

جواب: ۔۔۔ ان کو منع نہ کریں‘‘۔  (کتاب الصلاۃ، باب الجنائز 9 / 40 و 41 ط: فاروقیہ) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200154
تاریخ18-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں