بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1448ھ 02 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تیسری رکعت میں سلام پھیرنے کا حکم

سوال

چار رکعت والی فرض نماز کی تیسری رکعت میں اگر تشہد کے بعد دورو پڑھ کر ایک سلام پھر دیا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر سلام پھیرنے  کے بعد کوئی منافی صلاۃ کام نہیں کیا یعنی سینہ قبلہ رخ سے نہیں پھیرا تو فوراً کھڑا ہو جائے اور نماز  مکمل کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔

"سلم مصلی الظهر مثلاً علی رأس الرکعتین توهما إتمامها، أتمها أربعاً وسجد للسهو؛ لأن السلام ساهیاً لایبطل؛ لأنه دعاء من وجه". (شامي ۲؍۵۵۹) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200127
تاریخ16-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں