بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فجر کی سنت کی قضا

سوال

اگر فجر کی سنت قضا ہو جائے اور سفر میں جانے کا ارادہ ہے اور سفر میں سہولت نہ ہونے کا اندیشہ ہو تو کیا فجر کی نماز کے بعد فوراً  سنت کی قضا کر سکتا ہے؟

جواب

سنتوں کی مستقل طور پر قضا نہیں ہے، البتہ فجر کی سنتوں کی تاکید کی وجہ سے یہ حکم ہے کہ جس دن فجر کی سنتیں تنہا یا فجر کی فرض نماز کے ساتھ رہ جائیں تو اشراق کا وقت ہوجانے کے بعد سے لے کر اسی دن زوال کے وقت تک فجر کی سنتیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں فجر کی فرض نماز کے بعد اشراق کا وقت ہونے سے پہلے فجر کی سنتیں ادا کرنا درست نہیں ہے، اشراق کا وقت داخل ہونے کے بعد سے لے کر زوال تک اگر سفر کے دوران سنت ادا کرنے کا موقع مل جائے تو ادا کرلی جائیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200123
تاریخ16-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں