بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مطلقہ کا دوسری شادی کرنے کا حکم

سوال

میری طلاق کو ساڑھے پانچ سال ہو گئے ہیں، میری ایک بیٹی ہے، جس کی عمر 9 سال ہے، میرے سابقہ شوہر نے فوراً شادی کر لی تھی، میری عمر 34 سال ہے، میرے ماں باپ میری شادی کرانا چاہتے ہیں، لیکن میں اپنی بیٹی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتی کہ اس کو دکھ نہ ہو، ایسے حالات میں دین کیا کہتا ہے؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟

 

جواب

آپ کے والدین شادی کرنا چاہتے ہیں اور رشتہ بھی مناسب ہو تو آپ شادی کرسکتی ہیں، خصوصاً اگر نان و نفقہ کے حوالے سے مشکلات ہوں یا گناہ میں واقع ہونے کا اندیشہ ہو تو شادی کرلینی چاہیے۔ جہاں تک آپ کی بیٹی کے حقوق کی بات ہے تو اولاد کی تربیت سے متعلق شریعت کا ضابطہ یہ ہے کہ میاں بیوی کی علیحدگی کے بعد لڑکی کی تربیت کا حق سات سال کی عمر  تک ماں کو ہوتا ہے اور سات سال کی عمر کے بعد بیٹی کی تربیت کا حق باپ کو ہوتا ہے، لہذا اگر آپ کے سابقہ شوہر آپ کی بیٹی کو لینا چاہیں اور اپنے پاس رکھنا چاہیں تو آپ اُن کو دے سکتی ہیں۔اور  اگر وہ بیٹی کو رکھنا نہ چاہیں اور بیٹی آپ ہی کے پاس ہو پھر بھی شرعاً آپ کو اس بات کی اجازت ہے کہ آپ دوسری شادی کر لیں، اس میں شرعاً  کوئی حرج نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200102
تاریخ15-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں