بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صدق اللہ العظیم کہنا بدعت نہیں

سوال

کیا قرآنِ مجید کی تلاوت کے بعد صدق اللہ کہنا بدعت ہے یا نہیں؟  ہمارے یہاں اس کو بدعت کہتے ہیں،  کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی ثبوت ہے ؟

جواب

تلاوتِ قرآن کے اختتام پر ’’صدق اللہ العظیم‘‘ کہنا آداب میں سے ہے، لازم اور ضروری نہیں ہے، سنت بھی نہیں ہے، نیز سنت سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہیے اور جو نہ پڑھے اس  کو ملامت  بھی نہیں کرنا چاہیے، تلاوت کے اختتام کی علامت اور قرآنِ کریم پر ایمان کی تجدید  کی وجہ سے ایک ادب اور اچھا کام ہے،البتہ یہ بدعت بھی نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ مسکوت عنہ کے حکم میں ہے، جس کا ادنیٰ درجہ مباح ہے بدعت نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200021
تاریخ10-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں