بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضا روزہ

سوال

 اگر ایک شخص نے بہت سارے روزے چھوڑے بغیر کسی شرعی عذر کے، اور بعد میں اس کو خیال آیا کہ یہ تو مجھ سے بہت گناہ کا کام سرزد ہوا، اور وہ اس کو واپس لوٹانا چاہتا ہے اس کی قضا کرنا چاہتا ہے تو آیا صرف اور صرف اس کی قضا کرے گا یا کہ اس کو اس کا کفارہ بھی ادا کرنا پڑے گا؟ مطلب کہ اس کو دو مہینے لگاتار روزے بھی رکھنا پڑیں گے یا صرف اور صرف اپنے ان چھوٹے ہوئے روزوں کو ہی رکھے گا تو اس کی سزا پوری ہوجائے گی؟

جواب

رمضان المبارک کا روزہ بلاعذرِ شرعی چھوڑنا کبیرہ گناہ ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ زندگی بھر روزے رکھے جائیں تو بھی اس روزے کا ثواب حاصل نہ ہوپائے جو اس دن روزہ رکھنے سے حاصل ہوتا۔ بہرحال مذکورہ شخص کو ندامت ہوگئی ہے اور صدقِ دل سے توبہ کرلی ہے تو جو روزے چھوڑ دیے ہیں (یعنی رمضان المبارک کا روزہ رکھ کر توڑا نہیں، بلکہ رکھا ہی نہیں تو) ہر روزے کے بدلے ایک روزہ رکھنا ہوگا، اس صورت میں کفارہ نہیں ہوگا۔ (الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب مایفسد الصوم و ما لا یفسدہ ج ۲ ص ۱۳۸۔ط۔سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200015
تاریخ09-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں