بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1448ھ 02 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر کی نمازمیں غلطی سے دوسری رکعت پر سلام پھیرنے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

وتر کی نماز پڑھ رہا تھا، دوسری رکعت پر دونوں طرف سلام پھیر دیا اور یاد آنے پر جلدی اٹھا اور تیسری رکعت پڑھی اور آخر میں سجدہ سہو کیا، وتر ہو گئی یا نہیں؟

جواب

جی ہاں! اگر دوسری رکعت پر سلام غلطی سے  پھیرا تھااور سلام  پھیرنے کے بعد منافی صلاۃ کوئی کام نہیں کیا تھا، پھر تیسری رکعت پوری کر کے سجدہ سہو بھی کر لیا تو نماز درست ہو گئی۔ 

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 164):
"ولو سلم مصلي الظهر على رأس الركعتين على ظن أنه قد أتمها، ثم علم أنه صلى ركعتين، وهو على مكانه ، يتمها ويسجد للسهو أما الإتمام فلأنه سلام سهو فلا يخرجه عن الصلاة.
وأما وجوب السجدة فلتأخير الفرض وهو القيام إلى الشفع الثاني". فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144007200006
تاریخ08-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں