بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ عدت کے بعد نکاح کرلے تو پہلے شوہر کی میراث میں سے دوسرے شوہر کا حصہ ہوگا؟

سوال

اگر ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے اور وہ عورت بعد عدت کے دوسری شادی کرلے تو کیا پہلے شوہر کی میراث میں سے کچھ حصہ دوسرے شوہر کو ملے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں اس کی بیوہ کا تو حصہ ہوگا، اگر چہ وہ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلے۔ تاہم نکاح کے بعد اس  بیوہ کے پہلے شوہر کی میراث میں سے دوسرے شوہر کا کوئی حق وحصہ نہیں ہوگا۔

ہاں! اگر بیوہ کا انتقال ہوجائے تو اس کا جو حصہ پہلے شوہر کے ترکے میں سے ہوگا، اسے بیوہ کے دیگر ترکے کے ساتھ ملاکر اس کے ورثاء (بشمول دوسرے شوہر) میں بقدرِ حصص تقسیم کیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201611
تاریخ07-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں