بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امتحان میں نقل کرنا

سوال

 بورڈ کے امتحان میں کاپی (نقل) کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، آیا کرسکتے ہیں؟

جواب

امتحانات میں نقل کرنا شرعاً ناجائز ہے، یہ کئی گناہوں کا مجموعہ ہے، اس میں  دھوکا دیناپایا جاتا  ہے جب کہ مشہور حدیث ہے کہ جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ، اور نقل کرناوعدہ خلافی  بھی ہے  جو کہ اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں ، نیز قانون شکنی بھی ہے؛ کیوں کہ حکومتی قوانین کے علاوہ ہر ادارے کے قوانین میں بھی نقل ممنوع ہوتی ہے، لہذا یہ عمل ناجائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201582
تاریخ06-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں