بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف سونے کا نصاب

سوال

 زید کی بیوی کے پاس صرف  پانچ تولہ سونا ہے اور زید اس کو ہر مہینے اس کے ذاتی خرچے کے لیے تین ہزار روپے دیتا ہے جو اس سے خرچ ہو جاتے ہیں، اور اس کےپاس کچھ پیسے نہیں بچ پاتے، اب آیا زید کی بیوی پر زکات  فرض ہے یا نہیں؟

جواب

اگر اس کے پاس واقعۃً  کچھ بھی پیسے نہیں بچتے تو اس پر زکات واجب نہیں ہے؛ اس لیے  کہ ملکیت میں صرف سونا ہونے کی صورت میں زکات  کا نصاب   ساڑھےساتھ تولے سونا ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 18):
"فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم «والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر» وكان الدينار على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مقوما بعشرة دراهم.
وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال» وسواء كان الذهب لواحد أو كان مشتركا بين اثنين أنه لا شيء على أحدهما ما لم يبلغ نصيب كل واحد منهما نصابا عندنا، خلافاً للشافعي". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201568
تاریخ05-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں