بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

یا علی مدد کہنے کا شرعی حکم

سوال

یا علی مدد کہنے کا شرعی حکم؟

جواب

 ’یاعلی مدد‘کہنے سے مقصود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکار کر ان سے استغاثہ ہو تو یہ شرک ہونے کی وجہ سے ناجائزوحرام  ہے۔ 

"إن الناس قد أکثروا من دعاء غیر الله تعالی من الأولیاء الأحیاء منهم والأموات وغیرهم مثل: یا سیدي فلان أغثني ولیس ذلک من التوسل المباح في شيء ․․․ وقد عده أناس من العلماء شرکًا"․ (روح المعاني: ۲/۱۲۸) 

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

” یا علی مدد “ کہنے کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201557
تاریخ05-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں