بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسم کے کفاروں میں تداخل

سوال

اگر کئی قسموں کا کفارہ ایک قسم کے کفارے  سے ادا ہوجاتا ہے تو  کیا ادا کرتےوقت تمام قسموں کی طرف سے ادائيگی کی نیت ضروری ہے یا بغیر نیت کے یا ایک معین قسم کی طرف سے ادا کرنے سے بھی ادا  ہوجائے گا؟

جواب

قسم کے کفارہ میں تداخل نہیں ہوتا لہذا جتنی قسمیں ٹوٹی ہوں گی، اتنے کفارے ادا کرنے ہوں گے۔

"ثم الكفارات لا تندرئ بالشبهات خصوصا في كفارة اليمين فلا تتداخل."

 (المبسوط للسرخسي، 8 / 157)

"والله لاأكلم زيدًا يومين و لا يومين يكون يمينين ومدتهما واحدة حتى لو كلمه في اليوم الأول أو الثاني يحنث فيهما وتجب عليه كفارتان."

(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، 2 / 264)

"وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين."

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، 3 / 714)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201553
تاریخ04-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں