بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صنان نام رکھنے کا حکم اور معنی

سوال

میں اپنے بیٹے کا نام "صنان"  رکھنا چاہتا ہوں، کیا یہ نام رکھنا صحیح ہے؟

جواب

صُنَان (ص کے پیش اور ن کے زبر کے ساتھ)اس کا معنی ’’بدبو‘‘کا ہے، اس تلفظ کے ساتھ یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

اور صَنَّان (ص کے زبر اور ن کے زبر اور تشدید کے ساتھ)اس کامعنی ہے ’’بہادر‘‘۔ اس تلفظ کے اعتبار سے نام رکھنا تو درست ہے، مگر عام لوگ تلفظ کا خیال نہیں کرتے؛ اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ نام نہ رکھیں۔آپ چاہیں تو "صنان"  کے بجائے "سِنَان" (یعنی س کے زیر اور نون کے زبر بلاتشدید کے ساتھ)  نام رکھ سکتے ہیں۔(القاموس الوحید ص:947)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201480
تاریخ01-03-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں