بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اقامت بیٹھ کر کہنا

سوال

 بیٹھ کراقامت کرناکیسا ہے؟

جواب

جماعت کے لیے تندرست آدمی کا  بیٹھ کر اقامت دینا مکروہ ہے، اگرکوئی تن درست شخص موجود ہو تو  معذور شخص کو اقامت نہیں کہنی چاہیے، تاہم اگر کوئی دوسرا شخص موجود نہ ہو تو معذور کے لیے بیٹھ کر اقامت کہنے کی اجازت ہوگی۔

الفتاوى الهندية (1/ 54):
"ويكره الأذان قاعداً وإن أذن لنفسه قاعداً فلا بأس به، والمسافر إذا أذن راكباً لايكره وينزل للإقامة. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة وإن لم ينزل وأقام أجزأه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 388):
"(والإقامة كالأذان) فيما مر (لكن هي) أي الإقامة وكذا الإمامة (أفضل منه)، فتح". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201463
تاریخ28-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں