بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن پڑھ تاکہ شیطان تجھے جواب سکھائے کہنے کا حکم

سوال

میں  ایک آدمی سے بحث و مباحثہ کر رہا تھا. تو کسی بات پر مجھے اس کی بات کا جواب نہ آیا تو میں قرآن پڑھنے لگ گیا تو اس آدمی نے مجھ سے کہا : "قرآن پڑھ،  قرآن پڑھ،  شیطان تیرے دل میں جواب ڈال دے گا"  تو میں نے اس سے کہا : یہ تم نے کیسا جملہ کہا ہے؟  توبہ کرو!  تو اس نے کہا کہ میرے پاس اس کی تاویل موجودہے وہ یہ کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے بھی ایک شخص سے کہا تھا کہ نماز پڑھو، تمہاری گم شدہ چیز تمہیں یاد آجائےگی کہ کہاں رکھی ہے. تو کیا اس جملے کی یہ تاویل درست ہے؟ اور ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر واقعۃً  مذکورہ جملہ: ’’قرآن پڑھ،  قرآن پڑھ،  شیطان تیرے دل میں جواب ڈال دے گا‘‘ کہنے والے کے ذہن میں کہتے وقت یہی تاویل تھی کہ نیکی کے وقت شیاطین وسوسے ڈالتےہیں،  تو اسے بھی تلاوت سے توجہ ہٹانے کے لیے جواب سجھادے گا تو یہ تاویل قبول کی جائے گی، کہنے والے پر کوئی وبال نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201449
تاریخ27-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں