بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چورمعلوم کرنے کے لیے استخارہ

سوال

میرے گھر سے پیسہ اور سوناچوری ہوا ہے،  مجھے استخارہ کرانا ہے کہ کیا سامان گھر میں ہے؟ کیا گھر کے کسی انسان نے لیا ہے ؟کیا کام والی ماسی نے لیا ہے؟ 

جواب

استخارہ شرعی اصطلاح  اور ایک مسنون عمل ہے، جو رسول اللہ ﷺ نے درپیش کسی بھی جائز اہم کام میں اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنے کے لیے سکھایا ہے۔

چوری کس نے کی ؟سامان کہاں ہیں ؟ان امور کے لیےاستخارہ نہیں ہوتا ، جولوگ مختلف طریقوں سے اس کی تعیین کرتے ہیں شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں، نہ ہی اس درپے ہونے کی ضرورت ہے۔ نیز اس عمل کو استخارہ بھی نہیں کہا جاتا۔

رہی بات آپ کے گھر سے پیسے اور سونا چوری ہونے کی تو اس حوالے سے  "إِنَّالِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ"  پڑھیں. نیز اپنی اشیاء کی خود حفاظت کیا کریں، خوب حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ نقدی، سونا چاندی وغیرہ قیمتی اشیاء پر آیۃ الکرسی پڑھ کر رکھا کریں۔ اور جب تک کسی شخص کے بارے میں کوئی دلیل یا ثبوت نہ ملے، بلادلیل اس کے بارے میں بدگمانی رکھنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201432
تاریخ26-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں