بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سودی معاملہ کرنے والے کو قرض دینا

سوال

 کیا ایسے شخص کو قرضہ دینا جائز ہے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ آدمی اس قرضہ سے سود کرے گا؟

جواب

جس آدمی کے بارے میں معلوم ہو کہ قرض لے کر اس سے سودی معاملہ کرے گا یعنی لوگوں کو سود پر قرض دے گا یا وہ مقروض ہے اور اس سے اپنے سابقہ قرضوں کا سود ادا کرے گا اور وہ شخص سودی معاملات سے تائب بھی نہ ہوا ہو تو اسے قرضہ دینا جائز نہیں۔

ہاں! البتہ سودی لین دین سے مکمل توبہ کرنے والا شخص  جس نے دوبارہ کبھی سودی لین دین نہ کرنے کا پختہ عزم کر لیا ہے اور اپنے ماضی پر پشیمان بھی ہے، اور صورتِ حال ایسی ہو کہ سود دیے بغیر اس کی جان نہیں چھوٹ سکتی ، وگرنہ اسے جیل یا قید خانے میں ڈال دیا جائے گا، تو ایسا قرضہ چکانے کے لیے اس کی مدد میں کوئی حرج نہیں ہے۔

قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں ۔

{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة:2]
ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو، برائی اور زیادتی کے کاموں میں باہمی تعاون مت کرو، اور اللہ تعالی سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سخت عذاب دینے والا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: 
’’جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت رفع کر دے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی مشکل رفع کر دے گا‘‘.  (بخاری: (2442) مسلم: (2580)
  فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201426
تاریخ25-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں