بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق نامہ میں 3 طلاق درج تھیں اور دستخط کردیے

سوال

بیوی نے خلع کا مطالبہ کیا اور میں نے کچھ شرائط پر خلع کے لیے ہاں کردی۔اب خلع کی شرائط پوری ہونے سے پہلے لڑکی کے والد نے طلاق نامہ بنوایا جس میں تین طلاق کا ذکر تھا۔اس پر مجھے بامرِ مجبوری دستخط کرنے پڑے۔ زبان سے کچھ ادا نہیں کیا اور نہ ہی سٹامپ پیپر کی عبارت پڑھی۔ اس کے بعد خلع کی جو شرائط طے ہوئی تھیں ان کو پورا کر دیا گیا۔ اب اس معاملے میں تین طلاق ہوئی ہیں یا خلع والی طلاقِ بائن ہوئی ہے؟ براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ ہمیں شدید قلق ہے، اس رشتے کے اس طرح ختم ہونے کا!

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق نامہ میں چوں کہ تین طلاق درج تھیں اور سائل نے دستخط کردیے تو اس سے تین طلاق واقع ہوچکی ہیں، بیوی سائل پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، رجوع جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201404
تاریخ24-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں