بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر کوئی شخص چوزہ پالے اور پھر وہ مرجائے تو کیا صدقہ دینا ہوگا؟

سوال

اگر کوئی شخص چوزہ پالے اور پھر وہ مرجائے تو کیا صدقہ دینا ہوگا؟

جواب

جانور پالنا جائز ہے بشرطیکہ ان کے کھانے پینے اور صفائی ستھرائی کا اہتمام کیا جائے۔ حدیثِ مبارک میں ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید آئی ہے جو جانور کو قید کرکے اسے کھانا پینا بھی نہیں دیتا اور نہ اسے آزاد کرتا ہے کہ وہ خود اپنا کھانا پینا تلاش کریں۔لہذا اگر چوزے کے کھانے پینے کا خیال رکھا گیا اورپھر بھی وہ مرگیا توشرعاً  کوئی صدقہ نہیں، البتہ اگر پالنے والے کی غفلت سے مرا ہے تو وہ گناہ گار ہے۔ اس صورت میں اللہ کے حضور قصور کا اعتراف اور استغفار ضروری ہوگا، صدقہ ضروری نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201401
تاریخ24-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں