بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، تین لڑکے اور چار لڑکیوں میں ترکہ کی تقسیم کا طریقہ

سوال

میت نے بیوی تین لڑکے اور چار لڑکیاں چھوڑا،  تقسیم کیسے ہو گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اولاً میت کے ترکہ میں سے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرضہ جات کی ادائیگی کی جائے گی پھر  اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو ایک تہائی میں سے نافذ کیا جائے گا، اس کے بعد مرحوم کے ترکہ کے کُل 80 حصے کر کے بیوی کو 10 حصے، ہر ایک بیٹے کو 14 حصے اور ہر ایک بیٹی کو 7 حصے دیے جائیں گے۔

یعنی فی صد کے اعتبار سے بارہ اعشاریہ پانچ فیصد بیوی کو ملے گا، ہر ایک بیٹے کو سترہ اعشاریہ پانچ فی صد (%17.5) ملے گا اور ہر ایک بیٹی کو آٹھ اعشاریہ سات پانچ فی صد (%8.75)ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144004201370
تاریخ22-02-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں